free web stats
پہلہ صفحہ / بی بی سی اردو / صومالی لینڈ: ’واپس مت آنا، وہ تمھیں ہم جنس پرست ہونے پر قتل کر دیں گے‘

صومالی لینڈ: ’واپس مت آنا، وہ تمھیں ہم جنس پرست ہونے پر قتل کر دیں گے‘



40 منٹ قبلمحمد شاہد (فرضی نام) کے گھر والوں نے کئی سالوں تک کوشش کی کہ وہ اسے دوسرے لڑکوں کی طرح ’زیادہ سخت گیر، مردانہ‘ رویہ اپنانے پر قائل کر لیں۔انھوں نے یہ بھی کوشش کی کہ نشہ آور ادویات کے استعمال سے محمد کے جسم میں سے ’نسوانی روح چلی جائے۔‘ مگر، کچھ کارگر نہ ہونے پر انھوں نے فیصلہ کیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ محمد شاہد کی زندگی کی تفصیلات پر مبنی یہ کہانی بتائی ہے لیلی محمود نے۔ یہ بھی پڑھیےیہ بات ہے سنہ 2019 کے موسم گرما کی ہے۔ برِ اعظم افریقہ کے ملک صومالی لینڈ کے دارالحکومت ہارگیسا میں ایک تپتی دوپہر کے دوران 20 سالہ محمد شاہد شہر کی گلیوں میں پھر رہے تھے۔ شہر کے بیشتر افراد قیلولہ لے رہے تھے اور دفاتر، بازار وغیرہ سب بند تھے اور یہ ایک مناسب وقت تھا، اگر آپ چپکے سے کہیں جانا چاہتے ہوں۔ محمد شاہد جا رہے تھے اپنے بوائے فرینڈ احمد اظہر (فرضی نام) سے ملنے۔ ان دونوں نے اس رشتے کو خفیہ رکھا ہوا تھا کیونکہ صومالی لینڈ میں ہم جنس پرستی پر نہ صرف قید کی سزا ہوتی تھی بلکہ کچھ واقعات میں سزائے موت بھی۔ صومالی لینڈ نے صومالیہ سے اپنے خود مختاری کا اعلان 30 برس قبل کیا تھا۔ یہاں کی عدالتیں اسلامی قوانین، یعنی شریعت کے نفاذ پر عمل پیرا ہیں اور اس کے مطابق ہم جنس پرستی غیر قانونی سمجھی جاتی ہے۔ اس وجہ سے وہ تمام افراد جو ہم جنس پرستی کے مرتکب ہوتے ہیں وہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنی شناخت ظاہر نہ کریں۔ محمد شاہد، جن کا کہنا ہے کہ وہ نسوانی عادات رکھتے ہیں، کے لیے اس صورتحال میں مخالف جنس کی طرف رغبت کا اظہار کرنا مشکل تھا۔ محمد شاہد اور احمد اظہر نے اپنے رومانوی تعلقات قائم کیے تو ایک بار ان کے کمرے میں احمد کی بہن اچانک پہنچ گئیں اور انھوں نے شور مچا کر پورے گھر کو جگا دیا۔ منٹوں میں ہی محمد شاہد کو گھر سے باہر بھیج دیا گیا۔ وہ اپنے ایک دوست کے گھر چھپ گئے جہاں انھیں ایک خیر خواہ کی جانب سے فون آیا کہ ‘گھر واپس مت لوٹنا، تمھیں جان سے مارنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔’محمد شاہد کہتے ہیں: ’مجھے احساس ہوا کہ میری ہم جنس پرستی ایک انوکھی چیز ہے کہ میں کسے چاہتا ہوں، کسے نہیں چاہتا۔‘جب وہ چھوٹے تھے، تو وہ اپنے بڑے بھائیوں اور کزنز کے ساتھ کمرے میں رہتے تھے۔ رات میں تمام لڑکے اکثر لڑکیوں کے بارے میں بات کرتے تھے اور محمد شاہد سے پوچھتے تھے کہ ایک لڑکی کے جسم میں تمھارا سب سے پسندیدہ حصہ کون سا ہے؟وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت مجھے پتا چل گیا کہ میں دوسروں سے مختلف ہوں۔‘محمد شاہد کو بڑے ہوتے ہوئے شوق تھا میک اپ اور خوبصورت لگنے کا۔ وہ اپنا زیادہ وقت اپنی بہنوں کے ساتھ بتانے لگے۔ اکثر وہ اپنی بہنوں کا لباس پہنتے اور جب تین بار ان کی والدہ نے انھیں ایسا کرتے دیکھا تو ان کو لگا کہ اب کچھ کرنا پڑے گا۔ محمد شاہد کے بڑے بھائی کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ محمد کو قرآن کے چند مخصوص حصے پڑھائیں۔ ہر رات محمد شاہد کو بتایا جاتا کہ وہ دہرائیں: ’اللہ ان مردوں کو سزا دے گا جو اپنا حلیہ عورتوں کی طرح اپنائیں گے۔ اور ان عورتوں کو سزا دی جائے گی جو خود کو مردوں کے حلیہ میں ڈھانپیں گی۔‘محمد شاہد کہتے ہیں کہ ان کے بھائی نے انھیں کہا کہ وہ خدا کو طیش دلا رہے ہیں اور انھیں اس کی وجہ سے جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔’میں دس سال کا تھا۔ میں ڈر گیا۔ میں راتوں میں پسینے میں شرابور اٹھتا تھا اور خوف سے چلاتا تھا، میری مدد کرو، مجھے بچاؤ، مجھے اللہ جہنم کی آگ میں جلا رہے ہیں!‘محمد شاہد نے پہلے تو کوشش کی کہ وہ اپنے گھر والوں کی خواہشات کی تکمیل کریں لیکن پھر انھوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔ جب محمد شاہد کی عمر 12 سال ہوئی تو ان کی والدہ نے انھیں ایک ’ری ہیب‘ سینٹر یعنی انھیں یہ عادت چھڑوانے کے لیے علاج کے ایک مقام پر بھیج دیا جہاں ان کمسن صومالی نوجوانوں کی تربیت کی جاتی جو ’صومالی اقدار سے بھٹک گئے تھے۔‘ایسے مراکز پورے صومالیہ اور صومالی لینڈ میں قائم ہیں۔ یہاں زیادہ تر بچوں کو زبردستی رکھا جاتا ہے اور ان کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہوتی ہے۔ محمد شاہد کہتے ہیں کہ یہ مراکز چلانے والے دھوکے باز افراد ہیں جو اسلامی تعلیمات کو مالی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ’میرے خیال میں یہ بد ترین جگہ ہے۔‘محمد شاہد کے گھر والوں کو لگتا تھا کہ ان کے نسوانی طرز عمل کی وجہ ہے ان میں ایک عورت کا جن آ گیا ہے اور مرکز والوں نے کہا کہ ’ہم اسے نکال باہر کریں گے۔‘ محمد شاہد کو ہر روز بتایا جاتا کہ وہ ایک روایتی مرد کی طرح کیسے رہ سکتے ہیں۔ انھیں چلنا پھرنا، فٹبال کھیلنا سکھایا گیا لیکن ان کی کوشش تھی کہ وہ کسی طرح ان سب سے بچ نکلیں۔ اس مرکز میں رہنے کے چوتھے دن ہی محمد شاہد کو جنسی زیادتی کا شکار بنایا گیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے رات کے اوقات میں ریپ کیا گیا۔ کئی دفعہ ریپ کرنے والے گروہ کی شکل میں آئے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ریپ کرنے والے دن میں کچھ کہتے تھے اور رات میں کچھ اور کرتے تھے۔ ’وہ یہ سب کر رہے تھے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ہم کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے۔‘مرکز کا عملہ جن بھگانے کے لیے جڑی بوٹیوں سے بنی ایک دوا دیتا تھا جس کا نام تھا ہرمالا۔ اس دوا سے انسان کو چکر آتے تھے اور، ہذیانی کیفیت ہوتی تھی اور متلی آتی تھی۔ محمد شاہد کہتے ہیں کہ اس دوا کو کھانے سے ان کو لگتا تھا کہ وہ جیسے ہوا میں اُڑ رہے ہیں اور ایسی جگہ ہے جہاں ستارے ہیں۔ ‘مجھے نہیں یاد ان دنوں کیا ہوتا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ ریپ ہوا یا نہیں۔ مجھے کچھ بھی نہیں معلوم۔‘جب انھیں آخری دفعہ ہرمالا دی گئی تو اس کی وجہ سے انھیں ہسپتال جانا پڑ گیا اور اس کے بعد سے ان کے پیٹ میں مسلسل تکلیف ہے۔ یہ مرکز چھوڑ جانے کے بعد محمد شاہد نے اگلے چند برسوں تک اپنی ہم جنس پرستی کو چھپایا۔ لیکن جب ان کی انٹرنیٹ پر احمد اظہر سے بات ہوئی تو وہ دونوں چوری چھپے وقت ساتھ بتانے لگے۔ جب محمد شاہد اپنے دوست احمد اظہر کے گھر سے بھاگے تو انھیں معلوم ہوا کہ ان کے گھر والے انھیں قتل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے انھیں نے ملک چھوڑنے کی تیاری شروع کر دی۔ دنیا کے بیشتر ملک صومالیہ کے رہائشیوں کو ویزا نہیں دیتے جب تک کہ وہ بہت سی مشکل شرائط پوری نہ کر سکیں، جیسے بینک اکاؤنٹ میں لاکھوں ڈالر رکھنا۔ صومالی لینڈ کے شہریوں کے لیے حالات اور بھی زیادہ دشوار تھے کیونکہ اس ملک کو خود مختار تسلیم کرنے والے صرف چار اور ملک ہیں، جو کہ جبوتی، کینیا، جنوبی افریقہ اور ایتھوپیا ہیں۔ ملک چھوڑنے کے لیے واحد راستہ ہے کہ ہزاروں ڈالر خرچ کر کے جعلی پاسپورٹ حاصل کیا جائے اور نقلی ویکسینیشن سرٹیفییکٹ اور ویزا لیا جائے۔ لیکن کسی نہ کسی طریقے سے محمد شاہد نے یہ حاصل کر لیا اور ملک سے بھاگ گئے۔ ان کی مدد کرنے والے ایک شخص نے انھیں ضروری دستاویزات فراہم کیں اور بتایا کہ ہرگیسا کے ہوائی اڈے پر ایک شخص سے جا کر ملو۔احمد اظہر کے گھر سے بھاگنے کے تین دن بعد، اور اپنی روانگی والے دن محمد شاہد نے وہ دستاویزات حاصل کیں اور جہاز پر بیٹھ گئے۔ یہ ان کا پہلا فضائی سفر تھا۔ ‘یہ سب بہت عجیب تھا۔ میں کھڑکی سے باہر دیکھے جا رہا تھا۔’ان کی منزل ملائیشیا تھی کیونکہ وہاں پہنچنے پر انھیں فری ویزا مل سکتا تھا۔ لیکن ایک صومالی تارک وطن کے لیے ملائیشیا میں زندگی آسان نہ تھی، کیونکہ وہاں پر بھی ہم جنس پرستی غیر قانونی ہے۔ لیکن ان کی خوش قسمتی یہ رہی کہ ان کے جیسے دیگر کئی افراد جو سالوں انتظار میں گزار دیتے ہیں، محمد شاہد کا کیس جلد حل ہو گیا اور انھیں ایک سال کے اندر ملک میں رہنے کی قانونی اجازت مل گئی۔ لیکن اس عرصے میں محمد شاہد کی مالی حالت اچھی نہ تھی کیونکہ ان کے پاس وہاں پر کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ محمد شاہد کو اس بات کا بھی ڈر تھا کہ کہیں ان کے گھر والے انھیں ڈھونڈ نہ لیں اور زبردستی ہرگیسا لے جا کر وہاں قتل کر دیں۔ ‘مجھے امید ہے کہ شاید ایک دن ایسا ہو جب میں کہیں اور جا سکوں۔ یورپ، یا امریکہ۔ لیکن تب تک مجھے کوشش کرنی ہوگی کہ میں خود کو زیادہ ظاہر نہ کروں اور دعا کروں کہ میرے گھر والے مجھے ڈھونڈ نہ سکیں۔’ان کے ساتھی احمد اظہر کے ساتھ کیا ہوا، یہ کوئی نہیں جانتا۔ اُن سے رابطہ کرنے کی تمام کوشش رائیگاں گئیں۔ نوٹ: تمام نام فرضی ہیں۔ تمام خاکے ساراہ ایلسا پنون نے بنائے ہیں۔

خبرکا ذریعہ : بی بی سی اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے