free web stats
پہلہ صفحہ / بی بی سی اردو / مشتاق احمد: ’پاکستان کرکٹ ٹیم کے ناتجربہ کار بولنگ اٹیک میں یاسر شاہ پر دباؤ ہے‘

مشتاق احمد: ’پاکستان کرکٹ ٹیم کے ناتجربہ کار بولنگ اٹیک میں یاسر شاہ پر دباؤ ہے‘


  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف موجودہ سیریز میں ابتک تین اننگز کھیلتے ہوئے تینوں میں آل آؤٹ ہو چکی ہے لیکن پاکستانی بولرز انگلینڈ کو صرف ایک مرتبہ آل آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

کپتان اظہرعلی ہوں یا ٹیم کوچز ہر کوئی پاکستانی پیس اٹیک کے ناتجربہ کار ہونے کے بارے میں تاثر کو یہ کہہ کر زائل کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ یہ پیس اٹیک نوجوان بولرز پر مشتمل ہے اور بہت زیادہ ′ ایکسائٹنگ′ ہے۔

تاہم اگر اس ایکسائٹمنٹ کو کارکردگی کے تناظر میں دیکھیں تو اولڈ ٹریفرڈ کے پہلے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں یاسر شاہ کی چار چار وکٹیں ہی قابل ذکر تھیں۔

پہلی اننگز میں محمد عباس کی دو اور دوسری اننگز میں ایک وکٹ تھی۔ نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی دونوں اننگز میں ایک سے زائد وکٹ حاصل نہ کر پائے۔ اسی طرح ساؤتھمپٹن کے دوسرے ٹیسٹ میں بھی محمد عباس دو سے زائد وکٹیں نہ لے سکے جبکہ نسیم شاہ اور شاہین آفریدی کو ایک ایک وکٹ ملی۔

تیسرے ٹیسٹ کے پہلے دن انگلینڈ کی گرنے والی چار میں سے دو وکٹیں یاسر شاہ کے حصے میں آئی ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی بولنگ کا زیادہ تر بوجھ وہی سنبھالے ہوئے ہیں۔

یاسر شاہ پر دباؤ

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سپن بولنگ کوچ مشتاق احمد یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جب بولنگ اٹیک میں شامل کچھ بولرز ناتجربہ کار اور نوجوان ہوں تو ایسے میں ٹیم میں موجود سینئر یا تجربہ کار بولر پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور اس کی ذمہ داری میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ کچھ یہی صورتحال یاسر شاہ کے ساتھ بھی ہے۔

مشتاق احمد کہتے ہیں کہ جب آپ نوجوان بولرز کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ہیں تو آپ پر دوہری ذمہ داری ہوتی ہے کہ ایک تو آپ نے سکور نہیں دینا ہوتا ہے اور ساتھ میں آپ نے وکٹیں بھی لینی ہوتی ہیں۔ یاسر شاہ نے انتیس اوورز کا سپیل کرتے ہوئے تقریباً سارا دن بولنگ کی ہے اور ہوا کے مخالف سمت کی ہے۔

مشتاق احمد کہتے ہیں کہ چونکہ یاسر شاہ ایک میچ ونر بولر ہیں لہذا انگلینڈ کے بیٹسمینوں نے ان کے بارے میں یہ پلان بنا کر رکھا ہوا ہے کہ ان کی بولنگ پر اٹیک کیا جائے تاکہ وہ سیٹ نہ ہوسکیں۔

اس صورتحال میں یاسر شاہ پر کافی دباؤ تھا۔ کوچنگ سٹاف کی یہی کوشش رہی ہے کہ ان پر سے یہ دباؤ ختم کیا جائے۔ چونکہ ان کے ساتھ نوجوان بولرز کھیل رہے ہیں لہذا اس سیریز میں یاسر شاہ کی ذمہ داری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے محمد عامر اور دوسرے سینئر بولرز رنز روک لیتے تھے تو یاسر شاہ کے ذریعے ہم اٹیک کروا لیتے تھے۔ آج انگلینڈ کے بیٹسمینوں نے ان پر اٹیک کیا کیونکہ ہوا بہت تیز چل رہی تھی اور وکٹ بالکل سیدھی تھی۔‘

نسیم شاہ کے بجائے کوئی دوسرا بولر کیوں نہیں؟

مشتاق احمد اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ نسیم شاہ کو لگاتار تین ٹیسٹ کھلانے کے بجائے تیسرے ٹیسٹ میں ان کی جگہ کسی دوسرے بولر کو موقع دیا جا سکتا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

نسیم شاہ

مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ ’پہلے ٹیسٹ میں بھی نسیم شاہ کو زیادہ بولنگ کا موقع نہیں ملا تھا۔ نسیم شاہ کو ٹیسٹ کرکٹ سیکھنے کے لیے ٹیسٹ کرکٹ ہی کھیلنی ضروری ہے۔ وہ جتنی مشکل کنڈیشنز میں بولنگ کریں گے اتنا ہی وہ اچھے بولر بنیں گے۔‘

پہلے سیشن میں آؤٹ کرنا ضروری

مشتاق احمد کے خیال میں انگلینڈ کو دوسرے دن کے پہلے سیشن میں آؤٹ کرنا بہت ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی بولرز انگلینڈ کو چار سو رنز تک آؤٹ کر لیتے ہیں تو پھر ایک اچھی بیٹنگ کر کے پاکستانی ٹیم مقابلے میں برابری پر آ سکتی ہے۔

پلان کوچ کا لیکن عمل کرنا کھلاڑی کا کام

مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ کوچز کھلاڑیوں کو ہر صورتحال کے مطابق پلان بنا کر دیتے ہیں لیکن یہ کام کھلاڑیوں کا ہے کہ وہ گراؤنڈ میں کس طرح اس پلان پر عمل کرتے ہیں۔

’پہلے ٹیسٹ کے صرف ایک سیشن کو چھوڑ کر باقی تمام میں پاکستانی ٹیم اچھا کھیلی ہے۔ وہ ایک سیشن تھا جس میں بٹلر اور ووکس نے جارحانہ کرکٹ کھیلی تھی۔`

ان کا کہنا ہے کہ کوچز تمام کھلاڑیوں خاص کر نوجوان کھلاڑیوں پر محنت کر رہے ہیں۔ ’ہمیں یہ یقین ہے کہ یہی وہ کھلاڑی ہیں جو ہمیں میچ جتوائیں گے لہذا اگر یہ کھلاڑی ناکام ہوتے ہیں تو ہم کوچز اس کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں یہی اونرشپ کہلاتی ہے۔‘

مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ عمران خان کے ساتھ کھیلے ہیں لہذا ان کے اس اصول کو ہمیشہ اہم سمجھا ہے کہ آخر وقت تک مقابلہ کرنا ہے اور کسی بھی مشکل سے مشکل صورتحال سے بھی باہر نکل سکتے ہیں اور ایسا کر دکھایا ہے۔ یہی بات وہ موجودہ کھلاڑیوں کو بھی بتا رہے ہیں۔

خبرکا ذریعہ : بی بی سی اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے