free web stats
پہلہ صفحہ / ٹی آر ٹی اردو / ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں 29.09.2020

ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں 29.09.2020


*** روزنامہ اسٹار: ” آرمینیا کے حملوں کے خلاف ترکی قومی اسمبلی  میں 4 پارٹیوں سے مشترکہ اعلامیہ” کی سرخی سے لکھتا ہے کہ قومی اسمبلی میں اسمبلی گروپ کی حامل جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی، ریپبلکن پیپلز پارٹی،نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی  اور ای پارٹی نے ایک مشترکہ اعلامیے کے ساتھ 28 ستمبر 2020 کو آرمینیا کی طرف سے بالائی کارا باخ  میں فائر بندی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر کے آذربائیجان  کی شہری آبادی اور فوجی اہداف پر حملوں کی مذمت کی ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم بین الاقوامی قانون  کے تفویض کردہ حقِ خود حفاظتی  کے دائرہ کار میں عوام کے تحفظ اور زمینی سالمیت کو یقینی بنانے کے لئے آذربائیجان  کی طرف سے شروع کی گئی دفاعی کاروائی کی حمایت کرتے ہیں۔

 

*** روزنامہ حریت: “آرمینیا کو مقبوضہ علاقوں سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے” کی سرخی سے لکھتا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ آرمینیا کو مقبوضہ علاقوں کو خالی کرنا اور علاقے میں نوگورنو  کاراباخ پر قبضے سے شروع کئے گئے بحران کو اب ختم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ منسک کے تین فریق یعنی امریکہ، روس اور فرانس 30 سالوں سے اس مسئلے کو حل نہیں کر سکے اور حل نہ کرنے کے لئے بھی ہر ممکنہ کوشش کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آذربائیجان اب اس مسئلے کو خود حل کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

 

*** روزنامہ ینی شفق: ترک ڈرون طیاروں نے لیبیا اور شام کے بعد نوگورنو کارا باخ میں داستان رقم کر دی” کی سرخی سے لکھتا ہے کہ لیبیا اور شام میں جنگی توازن کو تبدیل کرنے کے بعد ترک مسلح ڈرون طیاروں نے آمینی فوج  کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ترک مسلح ڈرون طیاروں نے کارا باخ کی جھڑپوں میں ایک دن کے دوران 22 بکتر بند گاڑیوں اور 15 سے زائد ائیر ڈیفنس سسٹموں کو نشانہ بنایا ہے۔ماہرین کے مطابق ترک  مسلح ڈرون طیارے ایک نئے دور کا آغاز ہیں۔

 

*** روزنامہ خبر ترک: ” آرمینیا کا اعتراف: ہم تمام پوزیشنیں کھو بیٹھے ہیں” کی سرخی سے لکھتا ہے کہ آذربائیجان۔ آرمینیا فرنٹ لائن پر شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اطلاع کے مطابق آذربائیجان کی فوج پیش قدمی کر رہی ہے۔ اس دوران آرمینیا کے زیر قبضہ علاقے نوگورنو کارا باخ کے نام نہاد لیڈر آرائیک ہاروتیونیان  نے اعتراف کیا ہے کہ وہ کاراباخ کے جنوب میں تمام پوزیشنوں سے محروم ہو گئے ہیں اور درجنوں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

 

*** روزنامہ وطن: ” ترکی میں پہلی کووِڈ۔19 ویکسین” کی سرخی سے لکھتا ہے کہ استنبول یونیورسٹی  جراح پاشا طب فیکلٹی میں ایک چینی غیر فعال ویکسین کی فیز 3 کاروائیوں کے دائرہ کار میں پہلی ویکسین تیار کر لی گئی ہے۔ویکسین سب سے پہلے ترکی میں ایک وارڈ بوائے 53 سالہ عاصم باش ترک  کو لگائی گئی ہے۔ اطلاع کے مطابق زیادہ محفوظ ویکسین کی دریافت تک کام جاری رہے گا اور جنوری یا فروری کے مہینے میں ویکسین لگانے کا آغاز کر دیا جائے گا۔

خبرکا ذریعہ : ٹی آر ٹی نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے