free web stats
پہلہ صفحہ / بی بی سی اردو / بھنڈر اور ڈنگی: وفاقی حکومتِ بحیئرہ عرب کی ساحلی پٹی کے جزائر کو آباد کیوں کرنا چاہتی ہے؟

بھنڈر اور ڈنگی: وفاقی حکومتِ بحیئرہ عرب کی ساحلی پٹی کے جزائر کو آباد کیوں کرنا چاہتی ہے؟


  • شبینہ فراز
  • صحافی

میڈیا پر وفاق اور صوبہ سندھ کے درمیان جزائر پر قبضے کی جنگ کو مون سون کی بارشوں نے وقتی طور پر ٹھنڈا کردیا تھا مگر وفاق کی جانب سے جاری کردہ حالیہ آرڈ یننس سے یہ تنازع ایک بار پھر سے گرم ہوچکا ہے اور فریقین کے تیور بتا رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ اور بڑھے گا۔

وزارت برائے سمندری امور کی ویب سائٹ پر موجود ‘پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2020’ گذشتہ ماہ کی دو تاریخ کو جاری کیا گیا اور 25 صفحات پر مشتمل اس آرڈ یننس کے مطابق بلوچستان اور سندھ کے ساحلوں پر موجود جزائر کی ترقی کے لیے ایک ‘پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی’ قائم کردی گئی ہے ۔

وفاقی حکومت ملک کی ساحلی پٹی (سندھ اور بلوچستان) پر موجو د ان تمام غیر آباد جزائر پر جدید شہر بسانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ نہ صرف سرمایہ کاری ملک میں آسکے بلکہ مقامی لوگ بھی خوش حال ہوں۔

اس کام کی ابتدا وہ سندھ کے ساحل پر موجود دو جزیروں بھنڈر اور ڈنگی سے کرنا چاہتی ہے۔

صدر پاکستان جناب عارف علوی کی جانب سے جاری کردہ یہ آرڈیننس دو ستمبر2020 کو جاری کیا گیا اورسرکاری گزیٹ میں شامل کیا گیا لیکن حیرت انگیز طور پر اس کے اجرا کی خبر میڈیا سے مخفی رہی تاوقتیکہ کہ اس کے چیئرمین کے عہدے کے لیے ویب سائٹ پر اشتہار جاری کیا گیا۔

صوبہ سندھ میں اس آرڈیننس کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم میدان جنگ بنے ہوئے ہیں۔

سندھ کی جانب اسے صوبے کے وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دی جا رہی ہیں تاہم حکومت سندھ کی جانب سے ابھی تک خاموشی کی کیفیت طاری ہے۔

اس سلسلے میں صرف ایک نمایاں ٹویٹ سامنے آئی ہے جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی انفارمیشن سیکریٹری نفیسہ شاہ کی جانب سے کی گئی ہے جس میں انھوں نے اس آرڈیننس کو غیر قانونی قرار دیا۔

لیکن اس کے ساتھ ہی پی پی پی کے سینئیر رہنما نثار کھوڑو کا بھی ایک سندھی چینل پر چلنے والا ٹی وی کلپ بھی سامنے آیا جس میں وہ اسے مقامی افراد کی ترقی قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کیا ہے ؟

آرڈیننس کے مطابق بھنڈر اور ڈنگی سمیت بلوچستان اور سندھ کے ساحلوں پر موجود تمام جزائر اب وفاق کی ملکیت ہیں اور انہیں شیڈول ون میں رکھا گیا ہے۔

آرڈیننس میں پانی کی حدود کے حوالے سے ‘ٹیریٹوریل واٹرز اینڈ میری ٹائم زونز ایکٹ 1976’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ساحل سے سمندر کے اندر 12 ناٹیکل میل تک کا حصہ اب اتھارٹی کی ملکیت تصور کیا جائے گا۔

آرڈیننس کے مطابق اس اتھارٹی کا دفتر کراچی میں اور اس کے سربراہ وزیر اعظم پاکستان خود ہوں گے۔

اتھارٹی کے معاملات چلانے کے لیے پانچ سے لے کر 11 ممبران پر مشتمل ایک بورڈ بھی تشکیل دیا جائے گا۔ اس بورڈ کا سربراہ چیئرمین ہوگا جسے پانچ سالوں کے لیے منتخب کیا جائے گا۔

اتھارٹی کو دیے گئے اختیارات کے مطابق یہ اتھارٹی ان جزائر کی زمین کو منتقل، استعمال، ٹیکس کی وصولی اوران زمینوں کی فروخت کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ آرڈیننس کی شق نمبر49 کے مطابق اسے کسی عدالت میں چیلینج نہیں کیا جاسکے گا۔

جزائر کا تنازع کیا ہے ؟

جزائر پر جدید شہر بسانے کا یہ خیال وفاق کو یکایک نہیں آیا۔ اس کی کڑیاں صدر مشرف دور سے ملتی ہیں۔

ان جزیروں کا تذکرہ سب سے پہلے 2006 میں میڈیا کے ذریعے سامنے آیا جب اُس وقت کی حکومت ان جزیروں پر دنیا کے جدید شہر بسانا چاہتی تھی اور اس کے لیے اس نے متحدہ عرب امارات کے ایک تعمیراتی گروپ سے رابطہ اور کثیر سرمایہ کاری کے لیے آمادہ کرلیاگیا تھا۔

اُس وقت کے وفاقی وزیر برائے جہاز رانی اور بندرگاہ، بابر غوری کے اخباری بیان کے مطابق ‘سمندر میں موجود جزائر پر شہر آباد کرنے کے لیے وفاقی حکومت بنیادی سروے کا کام مکمل کرچکی ہے، نئے شہر کا ماسٹر پلان بن چکا ہے اور اس نئے شہر کی آبادی کاری کے لیے ایک درجن سے زائد اعلی سطحی اجلاس کیے جاچکے ہیں۔ اس منصوبے کا مین سٹیک ہولدڑ کراچی پورٹ ٹرسٹ ہے۔’

لیکن ملک میں سیاسی مسائل نے مشرف حکومت کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی یہ منصوبہ کاغذوں میں دب کر رہ گیا۔

اس کے بعد دوبارہ اس تنازع نے 2013 میں سر اٹھایا۔ اس وقت بھی وفاقی حکومت یہاں کثیر سرمایہ کاری کرنا چاہ رہی تھی اور اس حوالے سے 45 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا معاہدہ ہونے جارہا تھا۔

اس بار یہ معاہدہ پاکستان کے تعمیراتی شعبے سے وابستہ ایک مشہور شخصیت سے کیا جارہا تھا جو عرب امارات کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر یہاں جدید عمارات کی تعمیر کرنا چاہ رہے تھے۔

لیکن سول سوسائٹی اور صوبائی حکومت کی جانب سے آنے والے دباﺅ نے ایک بار پھر ان جزیروں کو بچالیا۔

یہ جزائر ہیں کیا؟

اس وقت جن دو جزیروں پر جدید شہر بسانے کی بات ہورہی ہے وہ بڈو اور بنڈال کے جڑواں جزائر ہیں جنھیں مقامی لوگ بھنڈر اور ڈنگی بھی کہتے ہیں۔ بھنڈر جزیرہ 12,000 ایکڑ کے رقبے پر محیط ہے۔

ماحولیات کے عالمی ادارے ورلڈ وائلڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ریجنل ڈائریکٹر طاہر رشید کے مطابق یہ جزائر ماحولیاتی وسائل سے مالامال ہیں۔

ان جزیروں پر 3,349 ہیکٹر کے وسیع رقبے پر تیمر کے جنگلات موجود ہیں اور یہاں حیات کی تمام رنگا رنگی پائی جاتی ہے۔

یہ جزائر50 سے زائد پودوں کی انواع، دنیا کے نایاب سمندری کچھوے، سمندری سانپ، 50 سے زیادہ پرندوں کی مقامی انواع اور ہزاروں سرمائی پرندوں کا مسکن ہیں ۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ جزیرے انڈس ڈیلٹا کا حصہ ہیں اور انڈس ڈیلٹا بین الاقوامی تحفظ یافتہ رامسر سائٹ میں شامل ہے اور پاکستان رامسر کنونشن کا توثیق کنندہ ہے جس کی رو سے ان آب گاہوں کے ماحولیاتی وسائل کا ہرممکن تحفظ ضروری ہے۔

طاہر رشید کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ ڈبلیو ڈبلیو ایف ترقی کے خلاف نہیں ہے مگر اس کا تخمینہ لگانا بہت ضروری ہے کہ اس عمل سے نقصان زیادہ ہوگا یا فائدہ۔

دوسری جانب پاکستان فشر فوک فورم (پی ایف ایف) کے سربراہ محمد علی شاہ کے مطابق ‘وفاقی حکومت کی سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر موجودتمام جزائر پر نظر ہے اور اپنی سرگرمیوں کی ابتدا وہ بھنڈر اور ڈنگی سے کررہی ہے اور پی ایف ایف اس منصوبے پر احتجاج کرے گی۔’

انھوں نے مزید کہا کہ ان جزائر پر تعمیرات اور دیگر سرگرمیوں سے آٹھ لاکھ کے قریب ماہی گیر براہ راست متاثر ہوں گے۔

محمد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کی ساحلی پٹی تقریباً ہزار کلومیٹر پر مشتمل ہے اور صرف سندھ کی ساحلی پٹی پر 300 کے قریب چھوٹے بڑے جزائر موجود ہیں جن پر موجود ہزاروں ایکڑ پر مشتمل تیمر کے جنگلات مچھلی اور جھینگوں کی پیداوار کا مرکز ہیں جو ان غریب ماہی گیروں کی گزراوقات کا ذریعہ ہیں ۔

‘کورنگی کریک، پھٹی کریک اور ابراہیم حیدری سے گزر کر یہ ماہی گیر سمندر تک پہنچتے ہیں۔ راستہ بند ہونے سے ان کا روزگار متاثر ہوگا اور وہ لوگ جو پہلے ہی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں فاقوں پر مجبور ہوجائیں گے۔’

محمد علی شاہ کے مطابق ان جزیروں میں سے ایک پر مقامی پیر کا سالانہ عرس ہوتا ہے اور اس وقت یہ جریزہ ہزاروں زائرین سے بھرجاتا ہے اور وہ مقامی مچھیروں کی اضافی آمدنی کا ذریعہ ہے۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ ان جزیروں پر جب بلڈرز دنیا کی سب سے ‘اونچی عمارت’ اور سب سے بڑے ‘شاپنگ مال’ تعمیر کریں گے گا تو ان پرندوں کا کیا ہوگا جو ہر سال ہزاروں میل کا سفر کر کے آتے ہیں اور ان جزیروں پر عارضی قیام کرتے ہیں۔

ماحولیاتی امور پر کام کرنے والے سماجی کارکن نصیر میمن کے مطابق دو ستمبر کو جاری ہونے والے آرڈیننس کا ایک مہینے تک مخفی رہنا سمجھ سے بالا ہے ۔

‘کیا یہ آرڈیننس صوبائی حکومت کی مرضی یا لاعلمی میں جاری ہوا ہے؟ دونوں صورتوں میں یہ سوالیہ نشان ہے۔ ملک کا آئین صوبوں کو اپنی ساحلی پٹی کی حفاظت کی ذمے داری دیتا ہے۔ سندھ میں پہلے ہی کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم ہے جس کے ہوتے ہوئے اس نئی اتھارٹی کی کیا ضرورت تھی؟’

ان ہی جزیروں کے حوالے سے نصیر میمن کی 2006 کی ایک رپورٹ کے مطابق جزیروں پر جدید تعمیرات کے بعد خدشہ ہے کہ ساحلوں پر موجود چھوٹے بڑے گاﺅوں کے لاکھوں مقامی لوگ اس علاقے میں آنے جانے سے محروم کردیے جائیں گے۔

ایک اور اندازے کے مطابق کراچی اور ٹھٹھہ کے ساحلوں پر آباد ماہی گیروں کی 4,000 کشتیوں کی سمندر کی جانب آمدورفت ختم ہوجائے گی۔

اس کے علاوہ یہ بھی ڈر ہے کہ ماہی گیروں کی سب سے بڑی آبادی ابراہیم حیدری، جہاں ڈیڑھ لاکھ کے قریب ماہی گیر آباد ہیں، بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ ان ماہی گیروں کا سمندر تک جانے کا راستہ، ذرائع روزگار اور مارکیٹ تک رسائی سب ختم ہو سکتا ہے۔

ماہر ماحولیات رفیع الحق کے مطابق جزائر اور ان کا ماحولیاتی نظام ساحلوں کی بقا کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سمندر کی تیز لہریں ہمیشہ اپنی توانائی سب سے پہلے سامنے آنے والے (فرسٹ سٹرائیک) پر منتقل کرتی ہیں اور ایسے سمندر جہاں سے ‘بفرزون’ اور جزائر ختم کردیے گئے ہوں، وہاں سمندری طوفان یا سونامی کا فرسٹ سٹرائیک شہروں پر ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

جہاں ایک جانب کراچی میں آرڈیننس کے خلاف مظاہرے ہوئے، وہیں دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی اس بارے میں تذکرہ جاری تھا۔

صارف داور بٹ نے ایک ٹویٹ میں لکھا ‘شارٹ ہارر سٹوری’ یعنی ایک مختصر سی خوفناک کہانی جس میں انھوں نے صدر پاکستان عارف علوی کی پرانی ٹویٹس کا حوالہ دیا اور جن میں انھوں نے ماضی میں کراچی پورٹ ٹرسٹ اور ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کراچی کو تیمر کے جنگلات پر تعمیرات کام کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ساتھ میں موجودہ آرڈیننس کے حوالے سے خبر لگائی جس میں کہا گیا کہ صدر عارف علوی نے اس آرڈنینس کو نافذ کر دیا۔

سماجی کارکن اور سندھ یونی ورسٹی جامشورو میں پروفیسر ڈاکٹر عرفانہ ملاح نے بھی ٹویٹ میں مطالبہ کیا کہ پی پی پی سندھ اسمبلی میں ہنگامی اجلاس طلب کرے تاکہ اس آرڈیننس کے خلاف قرارداد پیش کی جائے اور اسے ختم کیا جائے۔

معروف سیاستدان افراسیاب خٹک نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ حکومت پارلیمان کا سامنا نہیں کر سکتی اور عوامی بحث سے بچنا چاہتی ہے اور اسی لیے یہ آرڈیننس کے ذریعے حکومت چلا رہے ہیں اور عوام کو دبا رہے ہیں۔

قومی عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ آرڈیننس غیر آئینی ہے اور آئین کی شق 172 اور 239(4) کی خلاف ورزی ہے۔

خبرکا ذریعہ : بی بی سی اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے