free web stats
پہلہ صفحہ / بی بی سی اردو / گرین ہائیڈروجن: کیا سعودی عرب دنیا میں قابل تجدید توانائی کے لیے ایک نیا ایندھن لا رہا ہے؟

گرین ہائیڈروجن: کیا سعودی عرب دنیا میں قابل تجدید توانائی کے لیے ایک نیا ایندھن لا رہا ہے؟


  • جم روبنز
  • بی بی سی فیوچر

بحرِ احمر کی جانب سعودی عرب کے صحرا کے ایک آخری حصے کی جانب نیوم نامی مستقبل کے ایک جدید قسم کے شہر کی تعمیر کا آغاز ہونے کو ہے۔ اس شہر کی تعمیر پانچ سو ارب ڈالر کی لاگت سے ہو گی جس میں اڑنے والی ٹیکسیاں چلتی ہوں گی اور گھریلو کام کاج کے لیے روبوٹِس (خود کار مشینوں) کی مدد حاصل ہو گی، اور اِس میں دس لاکھ افراد آباد ہوں گے۔

اس شہر میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کون سا ایندھن استعمال ہو گا؟ تیل یا پیٹرول نہیں۔ اس کی جگہ سعودی عرب ایک نئے قسم کے ایندھن کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔۔۔ اور وہ ہے گرین ہائیڈروجن۔

اسے کاربن گیسوں کے اخراج سے پاک بننے والے ایندھن کو پانی کے ذریعے قابلِ تجدید بجلی سے ہائیڈروجن کے مالیکیولز میں سے آکسیجن کو علحیدہ کر کے حاصل کیا جائے گا۔

رواں سال گرمیوں کے موسم میں امریکہ کی ایک بڑی گیس کمپنی، ایئر پراڈکٹس اینڈ کیمیکلز، نے اعلان کیا ہے کہ نیوم شہر کے منصوبے کے ایک حصے کے طور پر وہ سعودی عرب میں گرین ہائیڈروجن کا ایک پلانٹ گزشتہ چار برسوں سے تعمیر کر رہی ہے۔

یہ پلانٹ چار گیگا واٹ توانائی سے چلتا ہے جو کہ شمسی توانائی اور پن بجلی کے ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے۔

قابل تجدید توانائی کے ذریعے کے لیے شمسی توانائی اور پن بجلی کے کئی پلانٹ اس صحرا کے ایک بڑے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا گرین ہائیڈروجن کا منصوبہ ہے۔ اور سعودی عرب میں اس طرح کے اور بھی منصوبے زیرِ غور ہیں۔

روایتی ایندھن کے متبادل کے طور پر گرین ہائیڈروجن کے فروغ میں اس وقت سعودی عرب ہی واحد ملک نہیں ہے جو سرگرم عمل ہے۔

اب جبکہ امریکہ میں ایندھن کی ترقی کے بارے میں شاید ہی کوئی بات کی جاتی ہے، دنیا بھر میں اب گرین ہائیڈروجن کے فروغ کے بارے میں کافی باتیں ہو رہی ہیں۔

کئی کمپنیاں، سرمایہ کار ادارے، حکومتیں اور ماحولیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے سے دنیا میں نہ صرف حیاتیاتی ایندھن (زمین میں دبے ہوئے ایندھن مثلاً کوئلہ اور تیل کو حیاتیاتی ایندھن کہا جاتا ہے) کے استعمال کو ختم کیا جاسکتا ہے بلکہ بڑھتے ہوئے درجہِ حرارت پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

برطانیہ اور جرمنی جیسے ممالک میں ہائیڈروجن سے تیار کی گئی بجلی کو پہلے ہی سے ٹرینوں کو چلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن ہائیڈروجن کو مکمل طور پر کاربن سے پاک طریقوں سے حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے

امریکہ کی غیر سرکاری تنظیم نیچرل ریسورسز ڈیفنس کونسل سے وابستہ تجزیہ کار، راشل فخری کہتی ہیں کہ ‘اس سے بہت زیادہ امیدیں ہیں۔’

فخری جیسے ماہرین کا کہنا ہے کہ پن بجلی اور شمسی توانائی کارخانوں اور الیکٹرک کاروں کو بجلی دے سکتے ہیں، تاہم گرین ہائیڈروجن سٹیل مل اور سیمنٹ جیسی صنعتوں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے جن کا مکمل انحصار بجلی اور توانائی پر ہوتا ہے۔

فخری کہتی ہیں کہ ’معیشت کے آخری 15 فیصد اور ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو صاف انرجی دینا کافی مشکل ہے، ہوابازی، بحری جہاز، مینوفیکچرنگ اور لمبے سفر طے کرنے والے ٹرک وغیرہ۔‘

یورپ جس کا زیادہ نرخوں والی روس کی قدرتی گیس پر بہت زیادہ انحصار ہے، وہ گرین ہائیڈروجن کی ترقی کے لیے الیکٹرولِسز پلانٹس اور ہائیڈروجن سے متعقلہ دیگر انفراسٹریکچر پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ جرمنی نے گرین ہائیڈروجن کی ترقی کے فنڈ کے لیے سب سے زیادہ رقم مختص کی ہوئی ہے۔

یورپی کمیشن کا اپنی ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کے فروغ کی حکمتِ عملی پر یہ کہنا ہے کہ ‘یہ کاربن سے مکمل پاک کرنے کے معمے کو حل کرنے کا بنیادی جزو ہے۔’

توانائی کے ایک ذریعے کے طور پر ہائیڈروجن کا آئیڈیا کافی عرصے سے پیش کیا جا رہا ہے، لیکن اس ٹیکنالوجی پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ اس پر کبھی بھی زور دار طریقے سے کام شروع نہیں کیا گیا۔۔۔ اور اس کی وجہ بھی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وسیع سطح پر گرین ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کی جانب منتقل ہونے میں کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

جن میں سب سے قابل ذکر یہ ہے کہ ہائیڈروجن ایندھن کو صاف طریقے سے تیار کرنے کے لیے قابل تجدید ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔

الیکٹرولیسِز پلانٹس چلانے کے لیے جن میں پانی کے عناصر ہائیڈروجن اور آکسیجن کو علحیدہ کیا جاتا ہے اُس کے لیے بہت زیادہ وسیع سطح پر قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو تعمیر کرنا ہو گا۔

جبکہ اس کے برعکس اس وقت ہائیڈروجن کے حصول کا مروجہ ذریعہ ‘قدرتی گیس کو بہتر کرنا ہے’، جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے کہ اس کے لیے حیاتیاتی ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا پانی کے ابلتے ہوئے بخارات کے ساتھ تعامل کیا جاتا ہے جس سے ہائیڈروجن، کاربن مونو آکسائیڈ، کاربن ڈائی آکسائیڈ نکلتی ہے۔

کیونکہ اس روایتی طریقے سے میتھین سے ہائیڈروجن نکالنے کے دوران کاربن ڈائی اکسائڈ خارج ہوتی ہے اس لیے اسے ماحول دوست طریقہ نہیں کہا جاتا ہے، اس طریقے سے حاصل کی گئی ہائیڈروجن کو سیاہ مائل یا ‘گرے ہائیڈروجن’ کہا جاتا ہے۔

اور اس کے علاوہ اس کی تیاری کا کوئی بھی طریقہ استعمال کیا جائے، ہائیڈروجن کو سٹور کرنا اور پائپ لائن کے بغیر اس کی ترسیل کرنا بھی کافی مشکل کام ہے۔ اور اس وقت امریکہ جیسی کئی جگہوں میں ہائیڈروجن ایندھن کے دیگر ذرائع، مثلاً تیل اور گیس کی نسبت بے انتہا مہنگی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

اس برس اکتوبر میں ہائیڈروجن کے ایندھن سے چلنے والی دنیا کی سب سے پہلی بس سکاٹ لینڈ کے شہر ابرڈین میں متعارف کرائی گئی

برطانیہ کے ایک ادارے ‘بلومبرگ این ای ایف’ سے وابستہ مائیکل لائی بریش جو ہائیڈروجن سے ایندھن کے حصول کے طریقے کے ناقد ہیں، کہتے ہیں کہ اگرچہ اس کے فوائد ہیں لیکن ‘اس کے ساتھ نقصانات کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔’

لائی بریش کہتے ہیں کہ ‘قدرتی طور پر یہ علیحدہ حالت میں موجود نہیں ہوتی ہے لہٰذ اس کو بنانے کے لیے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کو سٹور کرنے کے لیے قدرتی دباؤ کی نسبت 700 گنا زیادہ دباؤ کی ضرورت ہوتی ہے اور منفی 253 درجہِ حرارت درکار ہوتا ہے۔

اس میں قدرتی گیس سے حاصل کی گئی ایندھن کا ایک چوتھائی توانائی کا یونٹ ہوتا ہے۔ یہ دھات کو جلا یا پگھلا سکتی ہے، یہ اپنے سٹور کے کسی ایک بہت ہی چھوٹے سے سوراخ سے خارج ہو سکتی ہے، اور یہ واقعی دھماکہ خیز بھی ہو سکتی ہے۔’

گرین ہائیڈروجن کے کئی منصوبے اس بات کو اب نقصانات اٹھانے بعد سمجھ رہے ہیں اور سیکھ رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں کمپنیوں کے ایک گروپ نے اپنے ایک علاقے پِلبارا سے گرین ہائیڈروجن کو سنگاپور برآمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سکیم کی گرین ہائیڈروجن کی 26 گیگا واٹ کی الیکٹرولیسِز فیکٹری چلانے کے لیے 1743 بڑی بڑی ہوا سے چلنے والی ٹربائینیں لگی ہوئی ہیں اور تیس میل کے علاقے میں اس سے جُڑے شمسی توانائی کے پینلز پھیلے ہوئے ہیں۔

لیکن یہ پورا پلانٹ جو ‘ایشین رینیوایبل اینرجی ہب’ کہلاتا ہے، وہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ ہائیڈروجن کی نسبت امونیا گیس کی برآمد زیادہ حقیقی راستہ ہو گا کیونکہ اتنی دور منزل تک ہائیڈروجن کو لے کر جانا کافی مشکل کام ہو گا۔

لائی بریش کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مسائل کے باوجود تاحال ‘گرین ہائیڈروجن نے ٹیکنالوجی سے زیادہ امیدیں باندھنے والے ماہرین کے تصورات کو ایک شیطانی انداز میں جکڑا ہوا ہے۔’

بن گیلا گھر ووڈ ایک کمپنی ‘میکینزی’ میں توانائی کے امور کے ایک تجزیہ کار ہیں جن کی گرین ہائیڈروجن پر بھی گہری نظر ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایندھن کا یہ ذریعہ اتنا نیا ہے کہ اس کا مستقبل ابھی کافی غیر واضح ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘کسی کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ اس میں کیا ہورہا ہے۔ اس وقت صرف قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ اس وقت اسے ایک نیا تیل کہنا بہت مشکل ہے۔ البتہ یہ مجموعی طور ایندھن کے مختلف ذریعوں میں شامل ہو سکتا ہے۔

تاہم اس ٹیکنالوجی کے موجدین اور اس کو فروغ دینے والوں کے لیے گرین ہائیڈروجن کا اتنا زبردست مستقبل ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اگر اسے قابل تجدید ایندھن کے ذرائع سے تیار کیا جائے تو یہ طریقہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس سے پاک ہو گا۔

مزید یہ کہ اگر اسے قابل تجدید ایندھن کے ذرائع سے تیار کیا جائے تو یہ شمسی توانائی کے ذرائع اور پن بجلی سے جڑے اتار چڑھاؤ کے مسائل کا حل بھی پیش کرسکتا ہے اور اس طرح اسے بہتر طریقے سے سٹور بھی کیا جا سکتا ہے۔

جب قابل تجدید ذرائع کی طلب کم ہو، موسمِ بہار یا خزاں میں، زیادہ مقدار میں بننے والی بجلی کو الیکٹرولیسِز کو چلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کو ہائیڈروجن اور آکسیجن کے عناصر کو علحیدہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر ہائیڈروجن کو پائپ لائن کے ذریعے کہیں بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا بھر میں کئی کمپنیاں اس نئے ایندھن کا رخ کر رہی ہیں۔ مگر امریکہ اس کی جانب جانے میں کافی پیچھے ہے کیونکہ قدرتی گیس جیسے ایندھن کے دیگر ذرائع کی قیمت بہت کم ہے۔

لیکن کئی نئے منصوبوں کا آغاز ہونے جا رہا ہے جن میں امریکی ریاست یوٹا کا گرین ہائیڈروجن سے چلنے والا بجلی گھر ہے، جو تیل سے چلنے والے دو بجلی گھروں کی جگہ لے گا اور یوٹا سمیت جنوبی کیلیفورنیا اور نیویڈا کے لیے بھی بجلی بنائے گا۔

،تصویر کا کیپشن

گرین ہائیڈروجن کے حامی اس کے مستقبل کے بارے میں بہت پرامید ہیں، تاہم اس پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ اسے محفوظ طریقے سے کہیں منتقل کرنا کتنا مشکل کام ہے

جاپان میں گرین ہائیڈروجن سے چلنے والا دنیا کا سب بڑا بجلی گھر ابھی حال ہی میں فوکوشیما کے قریب شروع ہوا ہے۔ فوکوشیما سنہ 2011 میں ایٹمی حادثے کی وجہ سے تباہی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اور اس کے قریب گرین ہائیڈروجن کے بجلی گھر کا شروع ہونے کی ایک علامتی حیثیت بنتی ہے۔ اس پلانٹ سے ایندھن کے سیلز میں بجلی بھری جائے گی جن کو کاروں اور فیکٹریوں دونوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔

اب جبکہ یورپ اپنے خطے کو کاربن سے پاک کرنے کی کوششوں کا آغاز کر چکا ہے، وہ بھی گرین ہائیڈروجن میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

یورپ نے حال ہی میں گرین ہائیڈروجن کے منصوبوں میں توسیع کے لیے ایک پالیسی کا مسودہ تیار کیا ہے تاہم اسے اپنانے کا سرکاری اعلان نہیں کیا ہے لیکن اس کی ماحول دوست پالیسی جس میں ایندھن کی ترقی کے لیے 470 ارب یورو سرمایہ کاری کا امکان ہے۔

یورپی یونین گرین ہائیڈروجن کے الیکٹرولیسِز کی ترقی، سٹوریج اور ان کی ترسیل کے لیے بھی کچھ رقم مختص کر رہی۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وسیع سطح پر اور تیزی سے صاف ہائیڈروجن کا استعمال ماحول کو صاف رکھنے کی حکمت عملی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔’

مشرقِ وسطیٰ جہاں شمسی توانائی اور پن بجلی کے لیے ہواؤں کے دنیا کا سب سے بڑا قدرتی ذریعے موجود ہے، وہ اب گرین ہائیڈروجن کے میدان میں ایک بڑا کھلاڑی بننے کی تیاری کر رہا ہے۔

ایک تحقیقی ادارے روکی ماؤنٹین انسٹیٹیوٹ کے ‘بریک تھرو ٹیکنالوجی پروگرام’ کے سربراہ ٹامس کوچ بلینک کہتے ہیں کہ ‘سعودی عرب میں ناقابل یقین حد تک ارزاں قیمت پر قابل تجدید ایندھن کے وسائل موجود ہیں۔سورج کی روشنی پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے، اور ہر شب ہوا کے چلنے پر بھی بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔’

بلومبرگ این ای ایف کا تخمینہ ہے کہ اتنی گرین ہائیڈروجن تیار کرنے کے لیے کہ جس سے دنیا کی توانائی کی ایک چوتھائی ضروریات پوری ہو، دنیا کو اس سے کہیں زیادہ بجلی کی ضرورت ہو گی جو تمام ایندھنوں کے ذرائع سے اس وقت حاصل ہوتی ہے، اور اِسے اس کے بنانے اور سٹوریج لیے 11 کھرب ڈالرز کی سرمایہ کاری درکار ہو گی۔

اس لیے اس وقت ساری توجہ معیشت کے 15 فیصد حصے پر ہے جس کی انرجی کی ضروریات شمسی توانائی یا پن بجلی سے باآسانی پوری کی جاسکتی ہیں۔

ان میں بھاری مشینیں تیار کرنے والی صنعتیں ہیں، دور دور تک سفر کرنے والی ٹرانسپورٹ ہے اور ہوابازی کی صنعت کے لیے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔

گرین ہائیڈروجن کی توانائی کی کثافت ہوائی جہاز میں استعمال ہونے والے تیل سے ساڑھے تین گنا زیادہ ہے اس لیے اس میں ہوابازی کی صنعت میں کاربن سے مکمل پاک گیسوں کے اخراج کا ایک روشن مستقبل نظر آتا ہے۔

ایئر بس، جو یورپ کی ہوائی جہاز بنانے کی سب سے بڑی کمپنی ہے، نے کچھ عرصہ پہلے ہی ایک بیان جاری کیا جس میں کہا کہ چند ایک بہت اہم مسائل کا حل نکالنا ضروری ہے جن میں ہوائی جہاز میں ہائیڈروجن کی سٹوریج، ایئرپورٹس پر ہائیڈروجن سے جڑے انفراسٹریکچر کا فقدان اور قیمت وغیرہ شامل ہیں۔

ایئر بس کمپنی کے زیرو ایمیشن ایئر کرافٹ شعبے کے نائب صدر گلین لیویلین کہتے ہیں کہ ‘گرین ہائیڈروجن کے مقابلے کی وجہ سے کم قیمت، اور تمام جڑی صنعتوں کی شراکت کاربن سے پاک پروازوں کے لیے لازمی ہے۔’

انھیں امید ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے کیونکہ انھیں یقین ہے کہ ہائیڈروجن سے چلنے والے جہاز سنہ 2035 تک پرواز کرسکیں گے۔

،تصویر کا کیپشن

امریکہ، جرمنی سے لے کر جاپان اور آسٹریلیا، دنیا بھر کے کئی ممالک گرین ہائیڈروجن میں سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں

اور اس وقت عمومی زندگی میں بھی گرین ہائیڈروجن کی کاروں میں ایک متبادل کے طور پر شناخت کرلی گئی ہے۔

برطانیہ میں ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرینیں، ٹرک، ڈبل ڈیکر بسیں مقبول ہو رہی ہیں۔ اور کیلیفورنیا میں ریاستی اسمبلی نے الیکٹرک اور ہائیڈروجن کاروں کی ترقی و فروغ کے لیے ‘لو کاربن فیول سٹینڈرڈ’ کا قانون کافی پہلے سنہ 2009 میں بنایا تھا۔

رواں برس اکتوبر میں بھاری کام کرنے والی مشینوں اور کاروں سمیت بہت زیادہ انرجی استعمال کرنے والی صنعتوں نے باقاعدہ ایک تنظیم قائم کی جس کو ‘ویسٹرن سٹیٹس ہائیڈروجن الائنس’ نام دیا ہے۔

اس کا مقصد ہے ڈیزل سے چلنے والی بسوں، ٹرکوں، ٹرینوں اور جہازوں کے متبادل کے طور پر ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی اور اس سے جڑے انفراسٹریکچر کو تیزی سے فروغ دینا۔

ویسٹرن سٹیٹس ہائیڈرو الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر رخسانہ بیگ محمدی کہتی ہیں کہ بھاری صنعتوں اور ایسی مشینیں جن میں بجلی پہنچانا مشکل کام ہے۔

انھیں چلانے کے لیے مستقبل میں کاربن سے مکمل پاک توانائی مہیا ہو گی۔ یہ ایک غیر متنازع حقیقت ہے۔ اس نئے الائنس کا وجود اس لیے عمل میں لایا گیا ہے تاکہ حکومت اور صنعتیں دونوں مل کر اس آنے والے انقلاب کے ظہور کو تیز کرسکیں۔’

اس وقت چھوٹی سطح کے ہائیڈروجن سسٹمز بنانے کے منصوبے بھی زیرِ غور ہیں جن سے عام گھروں کو بجلی دی جا سکے۔

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز نے ایک بین الاقوامی انجینیئرینگ کمپنی ‘جی ایچ ڈی’ کے اشتراک سے گھروں کے لیے ایک سسٹم تشکیل دیا ہے جو لاوو کہلاتا ہے اور شمسی توانائی کے ذریعے گرین ہائیڈروجن بناتا ہے اور سٹوریج کرتا ہے، جسے دوبارہ سے ضرورت کے مطابق بجلی میں تبدیل کر لیا جاتا ہے۔

روکی ماؤنٹین انسٹیٹیوٹ کے بلینک کہتے ہیں کہ گرین ہائیڈروجن میں یہ پیش رفت، جاپان سے لے کر یورپ اور امریکہ تک، حقیقت میں اچھی خبریں ہیں۔

گرین ہائیڈروجن کئی ایسی باتوں کا حل ہے جو لوگوں کو رات بھر سونے نہیں دیتی ہیں کیونکہ ماحولیاتی تبدیلی کے مسائل کا بظاہر کوئی حل نظر نہیں آتا ہے۔’

خبرکا ذریعہ : بی بی سی اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے