free web stats
پہلہ صفحہ / بی بی سی اردو / فیک نیوز، گمراہ کن خبریں: کیا بی جے پی لیڈر کی ٹویٹ پر ٹوئٹر کا انتباہ انڈیا میں گمراہ کن خبروں کی روک تھام کا آغاز ہے؟

فیک نیوز، گمراہ کن خبریں: کیا بی جے پی لیڈر کی ٹویٹ پر ٹوئٹر کا انتباہ انڈیا میں گمراہ کن خبروں کی روک تھام کا آغاز ہے؟


  • نیاز فاروقی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

گذشتہ چند برسوں میں انڈین سوشل میڈیا پر ہندو قدامت پسندوں کا راج رہا ہے جبکہ تقریر و تحریر کی آزادی کی آڑ میں فیک اور گمراہ کن خبریں پھیلانا انڈیا میں آج ایک عام سی بات بن گئی ہے۔

اور یہ کام صرف اس وجہ سے جاری و ساری ہے کیونکہ بڑی سوشل میڈیا کمپنیاں، جیسا کہ فیس بک اور ٹوئٹر، انڈیا یا دیگر ترقی پزیر ممالک میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کی جانے والی پوسٹس پر کوئی انتباہ جاری نہیں کرتی تھیں۔

حال ہی میں امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے موقع پر ٹوئٹر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بہت سی ٹوئٹس پر یہ انتباہ چسپاں کیا تھا کہ پوسٹ کی جانے والی معلومات گمراہ کن ہیں یا جو دعویٰ کیا گیا اس کے شواہد پیش نہیں کیے گئے ہیں۔

تاہم اب انڈیا میں بھی اس حوالے سے صورتحال تبدیل ہونے کی امید نظر آئی ہے۔

جمعرات کو انڈیا میں پہلی مرتبہ ٹوئٹر نے کسی سیاسی رہنما کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ پر انتباہ چسپاں کیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ امیت مالویہ کی کچھ دن پہلے کی گئی ایک ٹویٹ کو ٹوئٹر کی جانب سے ’گمراہ کن‘ بتایا گیا ہے۔

ہوا کچھ یوں کہ انڈین اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے ایک احتجاج کرتے ہوئے کسان کی تصویر شیئر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس اہلکار ان پر لاٹھی تان کر کھڑا ہے۔ بزرگ کسان کی یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لکھا ’یہ ایک انتہائی افسوسناک تصویر ہے۔ ہمارا نعرہ ’جئے جوان جئے کسان‘ تھا لیکن آج وزیر اعظم مودی کے تکبر نے جوان کو کسان کے خلاف کھڑا کر دیا۔ یہ بہت خطرناک ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

ٹوئٹر صدر ٹرمپ کی بہت سی ٹویٹس پر انتباہی نوٹس چسپاں کر چکا ہے

امیت مالویہ نے راہل گاندھی کی اس ٹویٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ راہل گاندھی انڈیا میں ایک طویل عرصے میں سامنے آنے والے سب سے ‘بدنام’ اپوزیشن لیڈر ہوں گے۔

اس پیغآم کے ساتھ امیت مالویہ نے ایک ویڈیو شیئر کی جو اسی بزرگ کسان اور پولیس اہلکار کی ہے مگر اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار نے لاٹھی تو تان رکھی ہے مگر وہ احتجاج کرنے والے کو مارتا نہیں ہے۔

ٹوئٹر نے مالویہ کے ٹویٹ کو ’گمراہ کن‘ بتاتے ہوئے واضح کیا کہ فیکٹ چیکنگ ویب سائٹس (حقائق پرکھنے والی ویب سائٹس) ‘بوم لائیو’ اور ‘الٹ نیوز’ کی خبر کے مطابق کسانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کی ایک بوڑھے آدمی کو پیٹنے والی ویڈیو میں ترمیم کی گئی تھی یعنی وہ اصل ویڈیو نہیں بلکہ ترمیم شدہ تھی۔

امیت مالویہ نے بی بی سی کی طرف سے رابطہ کرنے پر کوئی جواب نہیں دیا۔

ٹوئٹر نے فروری 2020 میں ’سنتھیٹک اور گمراہ کن میڈیا‘ سے متعلق نئے قواعد کا اعلان کیا تھا اور ان ٹویٹس کو، جو اس کے پالیسی کے منافی ہیں لیبل کرنا شروع کیا تھا۔ کمپنی کے مطابق اس طرح ٹویٹس کو لیبل کرنے کے وجہ سے گمراہ کن معلومات کی ٹویٹس میں 29 فیصد تک کمی آئی ہے۔

ٹوئٹر کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’گمراہ کن میڈیا کا تعین کرنے کے لیے ہم اپنی ٹیکنالوجی استعمال کر سکتے ہیں یا تیسرے فریق کے ساتھ شراکت کے ذریعہ رپورٹس موصول کر سکتے ہیں۔‘

تحقیقاتی صحافی پرانجے گوہا ٹھاکرتہ نے ٹوئٹر کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹوئٹر اور دوسری سوشل میڈیا کمپنیوں کو اس نوعیت کے مزید اقدامات اٹھانے چاہییں۔

ان اقدامات کا انڈین سوشل میڈیا پر کیا اثر ہوگا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا میں کسی سماجی رابطے کی ویب سائٹ کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام نہیں اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس کا کتنا اثر انڈین سوشل میڈیا پر ہوگا اور آیا انڈیا میں موجود دوسری سوشل میڈیا کمپنیاں بھی اس نوعیت کے اقدامات کریں گی یا نہیں۔

’بوم لائیو‘ سے منسلک ایچ آر وینکٹیش نے بھی ٹوئٹر کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کن خبروں کو پھیلانے والے حالات پیدا کرنے کے بعد اب وہ آخرکار اسے روکنے میں مدد کریں گے لیکن کیا ٹوئٹر انڈیا میں اپنی پالیسی کو جاری رکھے گا یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

انھوں نے کہا ’حالانکہ وہ قانونی طور ایسا کرنے کے پابند نہیں ہیں مگر اس طرح کے اقدامات پوری دنیا میں لیے جانے چاہییں۔‘

مالویہ حکمران جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور ماضی میں بھی ان پر گمراہ کن اور فیک نیوز پھیلانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

انڈین حکومت نے حال ہی میں واٹس ایپ کے ذریعے گمراہ کن معلومات پھیلانے والے والوں کی تفصیلات طلب کی تھیں مگر اس ایپ کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس کا میسجنگ سسٹم انکرپٹڈ ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر بھیجے گئے پیغامات کو نہیں پڑھ سکتے۔

فیک نیوز کیوں شیئر کی جاتی ہے؟

سوشل میڈیا کی آمدن کا ماڈل کلِکس اور شیئرز پر مبنی ہے جس کا فائدہ جعلی اور گمراہ کن خبریں پھیلانے والے اٹھاتے ہیں۔ ایچ آر وینکٹیش کے مطابق اس طرح کے خبروں کو نہ روکنے کی ایک بڑی وجہ انڈیا میں ان کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری ہے۔

واٹس ایپ کی مالک کمپنی فیس بک ہے اور ان کی انتظامیہ کے لیے انڈیا ایک بہت ہی اہم خطہ ہے کیونکہ انھوں نے انڈین کمپنی ریلائنس میں 570 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

وینکٹیش کہتے ہیں کہ اسی لیے ’فیس بک کے لیے اس نوعیت کا اقدام اٹھانا ٹوئٹر سے زیادہ مشکل فیصلہ ہو گا۔‘

انڈیا، کینیا اور نائیجیریا کے حوالے سے سنہ 2018 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’انڈیا کی ترقی، ہندو طاقت اور پرانے ہندو وقار کے متعلق گمراہ کن خبروں کو تحقیق کے بغیر بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے۔ ان پیغامات کو شیئر کرنے میں لوگوں کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ قومی تعمیر میں مدد کر رہے ہیں۔‘

امیت مالویہ کی اس ٹویٹ کو کم سے کم 10 ہزار بار ری ٹویٹ کیا گیا ہے اور 22 ہزار مرتبہ لائیک کیا گیا۔

انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اپار گپتا کہتے ہیں کہ ’جھوٹ اور گمراہ کن خبریں بلاتفریق ہر سیاسی جماعت کے لوگ پھیلاتے ہیں‘۔

انھوں نے کہا کون کتنے بڑے پیمانے پر یہ کام کر رہا ہے اس کا دارومدار کسی پارٹی کی مالی حیثیت پر ہوتا ہے اور اس وقت ہندو قدامت پسندوں کی مالی حالت بہتر ہے یعنی وہ سوشل میڈیا پر اخراجات اور پراپیگنڈا کرنے کے لیے زیادہ وسائل صرف کر سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک نظام کا بہت بنیادی مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘

انڈیا میں یہ بات بھی ہو رہی ہے کہ فیس بک اور ٹوئٹر وہ تمام تر اقدامات ترقی پذیر ممالک میں کیوں نہیں کرتے جو عموماً وہ ترقی یافتہ ممالک میں کرتے ہیں جیسا کہ فیک یا گمراہ کن مواد کو لیبل کرنا۔

اگرچہ ٹوئٹر نے گمراہ کن اور جعلی خبروں کو روکنے کی اپنی پالیسی کا اعلان رواں برس فروری میں کیا تھا لیکن انڈیا میں تاخیر سے اس کا نفاذ کرنے سے متعلق سوال پر ٹوئٹر انتظامیہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

تقریر اور اظہار رائے کی آزادی متاثر ہوگی؟

ٹوئٹر کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ’اس بات کا تعین کرنے کے بجائے کہ کوئی چیز صحیح یا غلط ہے، ہم ٹویٹ کو لیبل کر کے لوگوں کو اضافی اور سطحی معلومات دیتے ہیں تاکہ وہ اس مواد کے بارے میں بہتر فیصلہ کر سکیں کہ انھیں کیا کرنا ہے۔‘

تحقیقاتی صحافی پرانجے گوہا ٹھاکرتہ کا کہنا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی ایک ’یتیم‘ لفظ ہو گیا ہے جس کا بہت زیادہ غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور جھوٹی خبر پھیلانے والے بھی اسی کا حوالہ دیتے ہیں۔

وینکٹیش کا خیال ہے کہ ٹوئٹر کی جانب سے کیے گئے اقدام کو ’سینسر کرنا‘ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ٹوئٹر نے صرف ٹویٹ کو لیبل کیا ہے، ہٹایا نہیں ہے۔

دوسری جانب انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر گپتا کہتے ہیں کہ ’اس اقدام سے سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ ضرور بہتر ہوگا۔ یہ ان لوگوں کی، جو سچ کی قدر کرتے ہیں، غلطیوں کو صحیح کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرے گا۔‘

خبرکا ذریعہ : بی بی سی اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے