free web stats
پہلہ صفحہ / بی بی سی اردو / نظام شمسی کا ’خیالی‘ نواں سیارہ جس کی تلاش کئی دہائیوں سے جاری ہے

نظام شمسی کا ’خیالی‘ نواں سیارہ جس کی تلاش کئی دہائیوں سے جاری ہے


  • زاریہ گوریٹ
  • بی بی سی فیوچر

سیارے

پرسیول لوول ایک ایسے شخص تھے جن کی غلطیاں کافی مشہور ہوئیں۔ وہ انیسویں صدی کے مصنف تھے اور چونکہ کاروبار کے شعبے سے منسلک تھے اس لیے کافی امیر بھی تھے۔ ہمیشہ بڑی موچھیں رکھے ہوئے ہوتے تھے اور اکثر انتہائی نفیس تھری پیس سوٹ میں پائے جاتے تھے۔

پرسیول نے سیارہ مریخ کے بارے میں ایک کتاب پڑھی تھی اور اُسی کی بنیاد پر وہ ایک ماہرِ فلکیات بن گئے۔ اس کے بعد آئندہ چند دہائیوں تک وہ کچھ انتہائی عجیب و غریب دعوے کرتے رہے۔

انھیں یقین تھا کہ مریخ پر زندگی موجود ہے اور اُن کا خیال تھا کہ انھوں نے مریخ پر رہنے والی مخلوق کو ڈھونڈ بھی لیا ہے (یہ دعویٰ درست نہیں تھا)۔ کچھ اور لوگوں نے سیارے کی سطح پر موجود چند لکیروں کی نشاندہی کی تھی اور پرسیول کا دعویٰ تھا کہ درحقیقت یہ نہریں ہیں، جنھیں مریخ پر بسنے والی مخلوق نے سیارے کے برف پوش قطبین سے پانی حاصل کرنے کے لیا بنایا تھا۔

پھر انھوں نے اپنی ساری دولت ایک رسدگاہ بنانے میں لگا دی تاکہ وہ بہتر انداز میں اس سیارے کا جائزہ لے سکیں۔ بعد میں پتا چلا کہ دراصل یہ لکیریں نظر کا دھوکہ تھیں جو کہ اصل میں مریخ کی سطح پر موجود پہاڑ اور گڑھے تھے جو غیرمعیاری دوربینوں میں لکیروں کی طرح دکھائی دیتے تھے۔

خبرکا ذریعہ : بی بی سی اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے