ایکسپریس نیوز - چمکیلا، پیلا، زہریلا… نئی قسم کا مینڈک دریافت thumbnail 12

ایکسپریس نیوز – چمکیلا، پیلا، زہریلا… نئی قسم کا مینڈک دریافت

اس مینڈک کی شوخ زرد رنگت اسے جنگل میں پتوں کے نیچے چھپنے میں مدد دیتی ہے۔ (فوٹو: پی ایل او ایس ون)

اس مینڈک کی شوخ زرد رنگت اسے جنگل میں پتوں کے نیچے چھپنے میں مدد دیتی ہے۔ (فوٹو: پی ایل او ایس ون)

ساؤ پالو: برازیلی سائنسدانوں نے ساؤ پالو کے جنگلات سے خوبصورت لیکن زہریلے مینڈک کی ایک نئی نوع دریافت کرلی ہے جس کی جسامت انگلی کی پور سے بھی آدھی ہے۔

نئے دریافت ہونے والے مینڈک کا تعلق ’’براکیائی سیفالس‘‘ جنس سے ہے جس میں مینڈکوں کی کچھ اور اقسام بھی شامل ہیں۔ البتہ یہ تمام کی تمام انواع ساؤ پالو کے اسی جنگل میں صرف 1700 مربع کلومیٹر کے علاقے میں ہی پائی جاتی ہیں۔

مینڈک کی نودریافتہ نوع، جسے ’’براکیائی سیفالس روٹنبرگائی‘‘ (Brachycephalus rotenbergae) کا نام دیا گیا ہے، اسی جنگل میں پائی جاتی ہے۔

اس کی شوخ زرد رنگت اسے پیلے اور نمی والے پتوں کے درمیان چھپنے میں مدد دیتی ہے کیونکہ یہ عام طور پر جنگل کی زمین میں ہی چھوٹے چھوٹے بل بنا کر رہتا ہے۔

مینڈک کی اس نئی قسم کو شناخت کرنے کےلیے ماہرین کی ٹیم نے اس کی ظاہری ساخت، رنگت، ہڈیوں کی ساخت، آواز اور جینیاتی خصوصیات تک کو آپس میں مربوط کرکے جائزہ لیا۔

براکیائی سیفالس روٹنبرگائی مینڈک کی عمومی رنگت اتنی شوخ زرد ہوتی ہے کہ نارنجی (اورنج) کی طرح لگتی ہے۔ اس کا جسم مضبوط، سر چوڑا اور ناک والا حصہ چپٹا ہوتا ہے۔

اس نوع کے بالغ نر مینڈکوں کی لمبائی 1.35 سے 1.6 سینٹی میٹر تک، جبکہ بالغ مینڈکیوں کی لمبائی 1.6 سے 1.8 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔

اتنی مختصر جسامت ہونے کے باوجود، حملہ آور کا سامنا ہونے پر یہ مینڈک اونچی آواز میں ٹراتے ہیں لیکن اگر حملہ آور اپنی پیش رفت جاری رکھتے ہوئے قریب پہنچ جاتا ہے تو پھر یہ اپنا زہر اس پر پھینک دیتے ہیں جس سے کھال میں شدید جلن پیدا ہوتی ہے جو حملہ آور کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتی ہے۔

تاہم اگر حملہ آور بے حد سخت جان ہو تو پھر یہ اپنی جان بچانے کےلیے وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔

نوٹ: اس دریافت کی تکنیکی تفصیل آن لائن ریسرچ جرنل ’’پبلک لائبریری آف سائنس ون‘‘ (PLoS ONE) کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں